اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
602. باب جواز قتال من نقض العهد، وجواز إِنزال أهل الحصن على حكم حاكم عدل أهل للحكم
باب: جو عہد توڑ ڈالے اس سے لڑائی درست ہے اور محصورین قلعہ کو کسی عادل شخص کی ثالثی پر قلعہ سے باہر نکالنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1156
1156 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ، رَمَاهُ فِي الأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ واغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللهِ مَا وَضَعْتُهُ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوۂ خندق کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کر لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک ڈیرہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیے، خدا کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں، آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کن پر؟“ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے (اور یہودیوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 30 باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1156 in Urdu