اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
602. باب جواز قتال من نقض العهد، وجواز إِنزال أهل الحصن على حكم حاكم عدل أهل للحكم
باب: جو عہد توڑ ڈالے اس سے لڑائی درست ہے اور محصورین قلعہ کو کسی عادل شخص کی ثالثی پر قلعہ سے باہر نکالنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1155
1155 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، هُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ هؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ قَالَ: لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب بنوقریظہ، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (سعد رضی اللہ عنہ کو) بلایا، اور وہ قریب ہی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے (کیونکہ زخمی تھے) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ (اور ان کو سواری سے اتارو)“ آخر آپ اتر کر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں (بنوقریظہ) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ (اس لیے آپ ان کا فیصلہ کر دیں)“ انہوں نے کہا کہ پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں، انہیں قتل کر دیا جائے، اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 168 باب إذا نزل العدو على حكم رجل»
وضاحت: حضرت سعد کا فیصلہ حالات حاضرہ کے تحت بالکل مناسب تھا۔ اور اس کے بغیر قیام امن نا ممکن تھا۔ وہ بنو قریظہ کے یہودیوں کی فطرت سے واقف تھے۔ ان کا یہ فیصلہ یہودی شریعت کے مطابق تھا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1156
1156 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ، رَمَاهُ فِي الأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ واغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللهِ مَا وَضَعْتُهُ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ، فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوۂ خندق کے موقع پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کر لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک ڈیرہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیے، خدا کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں، آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کن پر؟“ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے (اور یہودیوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 30 باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1157
1157 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ سَعْدًا قَالَ: اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ؛ اللهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قرَيْشٍ شَيْءٌ فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ؛ وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، إِلاَّ الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هذَا الَّذِي يأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا رضي الله عنه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَخْرَجُوهُ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ، وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا» ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی ختم کر دی ہے لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھنا، یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تو نے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔“ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا، خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف کیوں بہہ کر آ رہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا، ان کی وفات اسی میں ہوئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 30 باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»