اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
670. باب ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام وبيان نسخه وإِباحته إِلى من شاء
باب: ابتدائے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت تھی اور اس کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1288
1288 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ، فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: لاَ تَأْكُلُوا إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ، وَلكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔“ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأضاحي/حدیث: 1288]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 73 كتاب الأضاحي: 16 باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1288 in Urdu