اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إِله إِلا الله محمد رسول الله
جو لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ نہیں کہتے ان سے جنگ کرنے کا حکم ہے
حدیث نمبر: 13
13 صحيح حديث أَبي بَكْر وَعُمَر قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَمّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكانَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَب، فَقالَ عُمَرُ رضي الله عنه: كَيْفَ تُقاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقاتِلَ النَّاسَ حَتّى يَقُولوا لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ، فَمَنْ قالَها فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ، وَحِسابُهُ عَلى اللهِ فَقالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لأُقاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاةِ وَالزَّكاةِ، فَإِنَّ الزَّكاةَ حَقُّ الْمالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُوني عَناقًا كَانوا يُؤَدُّونَها إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقاتَلْتُهُمْ عَلى مَنْعِها قالَ عُمَر رضي الله عنه: فَواللهِ ما هُوَ إِلاَّ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبي بَكْرٍ رضي الله عنه فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے (اور کچھ نے زکاۃ سے انکار کر دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں کہ ”مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کی شہادت نہ دے دیں اور جو شخص اس کی شہادت دے دے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا سوائے اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہو گا“؟ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکاۃ اور نماز میں تفریق کرے گا (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکاۃ کے لیے انکار کر دے) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ خدا کی قسم! اگر انہوں نے زکاۃ میں چار مہینے کے بچے کے دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا! یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 1 باب وجوب الزكاة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 13 in Urdu