اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
677. باب إِباحة النبيذ الذي لم يشتد ولم يصر مسكرًا
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے
حدیث نمبر: 1304
1304 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي عُرْسِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ، يَوْمَئِذٍ، خَادِمَهُمْ، وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ سَهْلٌ: تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی پر دعوت دی، ان کی دلہن ام اسید سلامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا کام کاج کر رہی تھیں اور وہی دلہن بنی تھیں۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہیں معلوم ہے انہوں نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو اس موقع پر کیا پلایا تھا؟ رات کے وقت انہوں نے کچھ کھجوریں پانی میں بھگو دی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ کو وہی (پانی) پلایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 71 باب حق إجابة الوليمة والدعوة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1304 in Urdu