🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
763. باب حكم إِطلاق لفظة العبد والأمة والمولى والسيد
باب: عبد، امتہ، مولیٰ اور سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1451
1451 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّى رَبَّكَ، اسْقِ رَبَّكَ وَلْيَقُلْ سَيِّدِي، مَوْلاَيَ وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي، أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلاَمِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص (کسی غلام یا کسی بھی شخص سے) یہ نہ کہے: «أَطْعِمْ رَبَّكَ» اپنے رب (مراد آقا) کو کھانا کھلا، «أَوْضِئْ رَبَّكَ» اپنے رب کو وضو کرا، «اسْقِ رَبَّكَ» اپنے رب کو پانی پلا بلکہ صرف «سَيِّدِي» میرے سردار، «مَوْلَايَ» میرے آقا کے الفاظ کہنا چاہیے، اسی طرح کوئی شخص یہ نہ کہے: «عَبْدِي» میرا بندہ، «أَمَتِي» میری بندی بلکہ یوں کہنا چاہیے: «فَتَايَ» میرا لڑکا (ملازم)، «فَتَاتِي» میری لڑکی (ملازمہ)، «غُلَامِي» میرا غلام۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 17 باب كراهية التطاول على الرقيق»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1451 in Urdu