اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
775. باب إِثبات حوض نبينا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وصفاته
باب: حوض کوثر کا ثبوت اور اس کی صفات
حدیث نمبر: 1480
1480 صحيح حديث عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلكِنِّي أَخْشى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا، أَنْ تَنَافَسُوهَا
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہدا پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں، اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے (قیامت کے دن) تمہاری ملاقات حوض (کوثر) پر ہوگی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 7 باب غزوة أحد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1480 in Urdu