اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
775. باب إِثبات حوض نبينا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وصفاته
باب: حوض کوثر کا ثبوت اور اس کی صفات
حدیث نمبر: 1475
1475 صحيح حديث جُنْدَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا فَرَطكُمْ عَلَى الْحَوْضِ
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”میں حوض پر تم سے پہلے موجود ہوں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1476
1476 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود رہوں گا، جو شخص بھی میری طرف سے گزرے گا وہ اس کا پانی پیے گا اور جو اس کا پانی پیے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1477
1477 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَزِيدُ فِيهِ فَأَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں۔“ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا: ”دُور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی تھی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1478
1478 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلاَ يَظْمَأُ أَبَدًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہو گی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی (میدان حشر میں) پیاسا نہ ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1479
1479 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي ومِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ (رَاوِي هذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَسْمَاءَ) يَقُولُ: اللهُمَّ إِنَّا نعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا
سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کیے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ (دین اسلام سے پھر گئے)“ ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دیے جائیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1480
1480 صحيح حديث عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلكِنِّي أَخْشى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا، أَنْ تَنَافَسُوهَا
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہدا پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں، اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے (قیامت کے دن) تمہاری ملاقات حوض (کوثر) پر ہوگی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 7 باب غزوة أحد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1481
1481 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَلَيُرْفَعَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ، ثُمَّ لَيُخْتَلَجُنَّ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابى فَيُقَالُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں، لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1482
1482 صحيح حديث حارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَوْضَ فَقَالَ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَصَنْعَاءَ
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حوض کا ذکر کیا اور فرمایا: ”(وہ اتنا ہے) جتنی مدینہ اور صنعاء کے درمیان دوری ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہما البخاري في: 81 کتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول اللّٰہ تعالیٰ: ﴿انا أعطینک الکوثر﴾۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1483
1483 صحيح حديث فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ، أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ الأَوَانِي قَالَ: لاَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ: تُرَى فِيهِ الآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ
(یہ سن کر) سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ نے (سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے) کہا: کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ مستورد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس میں برتن (پینے کے) ”اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں۔“ (یعنی بے شمار اور چمک دار ہوں گے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجهما البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1484
1484 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: أَمَامَكُمْ حَوْضٌ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرَحَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہو گا، وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1484]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»