🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
798. باب توقيره صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وترك إِكثار سؤاله عما لا ضرورة إِليه أو لا يتعلق به تكليف، وما لا يقع، ونحو ذلك
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے بہت زیادہ اور غیر ضروری اور نا ممکن قسم کے سوالات پوچھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1523
1523 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَحْفَوْهُ الْمَسْئَلَةَ، فَغَضِبَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لاَ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ بَيَّنْتُهُ لَكُمْ فَجَعَلتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لاَفٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لاَحَى الرِّجَالَ يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي قَالَ: حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولاً، نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے اور جب بہت زیادہ سوالات کیے تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”آج تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں بتاؤں گا۔“ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کپڑوں میں سر لپیٹے ہوئے رو رہے تھے، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف (طعنہ کے طور پر) منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! میرے باپ کون ہیں؟“ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حذافہ۔“ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ”ہم اللہ سے راضی ہیں کہ وہ ہمارا رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سچے رسول ہیں،“ «نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ» ”ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی طرح خیر و شر کے معاملے میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 35 باب التعوذ من الفتن»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1523 in Urdu