اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
798. باب توقيره صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وترك إِكثار سؤاله عما لا ضرورة إِليه أو لا يتعلق به تكليف، وما لا يقع، ونحو ذلك
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے بہت زیادہ اور غیر ضروری اور نا ممکن قسم کے سوالات پوچھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1524
1524 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ، قَالَ: يَا رَسُول اللهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی باتیں دریافت کی گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اور جب (اس قسم کے سوالات کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادتی کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”(اچھا اب) مجھ سے جو چاہو پوچھو۔“ تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ ہے۔“ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ سالم، شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔“ آخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا حال دیکھا تو عرض کی: یا رسول اللہ! ہم (ان باتوں کے دریافت کرنے سے جو آپ کو ناگوار ہوں) اللہ عزوجل سے توبہ کرتے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 28 باب الغضب في الموعظة والتعليم إذا رأى ما يكره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1524 in Urdu