اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب المسح على الخفين
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 159
159 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ: نَعَمْ؛ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ الإِدَاوَةَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُما فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک رات سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے دریافت فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے، پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا، ہاتھ دھوئے، آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستینیں چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھیں، چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو (کہنیوں تک) دھویا، پھر سر پر مسح کیا، پھر میں بڑھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ نے فرمایا: ”رہنے دو، میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا“، چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 11 باب جبة الصوف في الغزو»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 159 in Urdu