اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب المسح على الخفين
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 158
158 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ خُذِ الإِدَاوَةَ؛ فَأَخَذْتُهَا، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي؛ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں تھا، آپ نے ایک موقع پر فرمایا: ”مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے“، میں نے اسے اٹھا لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے، آپ نے قضائے حاجت کی، اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ ہاتھ کھولنے کے لیے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی، اس لیے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا، میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین (موزے) پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 7 باب الصلاة في الجبة الشأمية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 158 in Urdu