🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
836. باب من فضائل أبي موسى وأبي عامر الأشعريين رضی اللہ عنہ
باب: اشعر قبیلہ کے حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1623
1623 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ نَازِلٌ بَالْجِعْرَانَةِ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلاَ تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ: أَبْشِرْ فَقَالَ: قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ (أَبْشِرْ) فَأَقْبَلَ عَلَي أَبِي مُوسى وَبِلاَلٍ، كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ: رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا قَالاَ: قَبِلْنَا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ، فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا فَأَخَذَا الْقَدَحَ، فَفَعَلاَ فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَنْ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے، اتر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، اسی عرصہ میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدوی آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے، اسے پورا کیوں نہیں کرتے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بشارت ہو“، اس پر وہ بدوی بولا کہ بشارت تو آپ مجھے بہت دے چکے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما کی طرف پھیرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غصے میں معلوم ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بشارت واپس کر دی، اب تم دونوں اسے قبول کر لو“۔ ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو اس میں دھویا اور اسی میں کلی کی اور (ابو موسیٰ اشعری اور بلال رضی اللہ عنہما سے) فرمایا: ”اس کا پانی پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر اسے ڈال لو اور بشارت حاصل کرو“۔ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور ہدایت کے مطابق عمل کیا، پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا کہ اپنی ماں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دینا، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے ایک حصہ چھوڑ دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف في شوال سنة ثمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1623 in Urdu