🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
836. باب من فضائل أبي موسى وأبي عامر الأشعريين رضی اللہ عنہ
باب: اشعر قبیلہ کے حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
1624 صحيح حديث أَبِي مُوسَى رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ حُنَيْن، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقِي دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ قَالَ أَبُو مُوسى: وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ جُشَمِيٌّ بِسَهْمٍ فأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ فَأَشَارَ إِلَي أَبِي مُوسى، فَقَالَ: ذَاكَ قَاتِلِي الَّذِي رَمَانِي فَقَصَدْتُ لَهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ: أَلاَ تَسْتَحِي أَلاَ تَثْبُتُ فَكَفَّ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ قُلْتُ لأَبِي عَامِرٍ: قَتَلَ اللهُ صَاحِبَكَ قَالَ: فَانْزِعْ هذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَقْرِىءِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلاَمَ، وَقُلْ لَهُ: اسْتَغْفِرْ لِي وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ، فَمَكُثَ يَسِيرًا، ثُمَّ مَاتَ فَرَجَعْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي بَيْتِهِ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ، وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرٍ بِظَهْرِهِ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا، وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ وَقَالَ قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ فَقُلْتُ: وَلِي فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ: اللهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلاً كَرِيمًا قَالَ أَبُو بُرْدَةَ (رَاوِي الْحَدِيثِ) : إِحْدَاهُمَا لأَبِي عَامِرٍ، والأُخْرَى لأَبِي مُوسى
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ حنین سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک لشکر کے ساتھ ابو عامر رضی اللہ عنہ کو وادیِ اوطاس کی طرف بھیجا، اس معرکہ میں درید بن صمہ سے مقابلہ ہوا، درید قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابو عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی بھیجا تھا، ایک تیر ابو عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں آ کر لگا، بنو جُشم کے ایک شخص نے ان پر تیر مارا تھا جو ان کے گھٹنے میں پیوست ہو گیا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور عرض کیا: ”اے چچا! یہ تیر آپ کو کس نے مارا ہے؟“ انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ وہ جُشمی میرا قاتل ہے جس نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔ میں اس کی طرف لپکا اور اس کے قریب پہنچ گیا، لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگ نکلا، میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہتا جا رہا تھا: ”کیا تجھے شرم نہیں آتی؟ کیا تو ثابت قدم نہیں رہ سکتا؟“ آخر کار وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلواروں سے وار کیے، میں نے اسے قتل کر دیا، پھر ابو عامر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آ کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قاتل کو قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”میرا یہ (گھٹنے میں سے) تیر نکال لو۔“ میں نے وہ تیر نکال لیا تو اس (زخم) سے پانی جاری ہو گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔“ ابو عامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر مجھے اپنا امیر مقرر کر دیا، اس کے بعد وہ تھوڑی دیر ہی زندہ رہے اور پھر انتقال (شہادت) پا گئے۔ میں واپس ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں بانوں کی ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے جس پر کوئی بستر نہیں بچھا ہوا تھا اور بانوں کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ اور پہلو مبارک پر پڑ گئے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور ابو عامر رضی اللہ عنہ کا سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے دعائے مغفرت کی درخواست کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ» ”اے اللہ! عبید ابو عامر (رضی اللہ عنہ) کی مغفرت فرما۔“ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ» ”اے اللہ! قیامت کے دن اسے اپنی بہت سی مخلوق (انسانوں) سے بلند تر درجہ عطا فرمانا۔“ میں نے عرض کیا: اور میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا فرما دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا» ”اے اللہ! عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ) کے گناہوں کو معاف فرما اور قیامت کے دن اسے عزت والے مقام میں داخل فرما۔“ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان دعاؤں میں سے ایک ابو عامر رضی اللہ عنہ کے لیے تھی اور دوسری ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 55 باب غزاة أوطاس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1624 in Urdu