اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
837. باب من فضائل الأشعريين رضی اللہ عنہ
باب: اشعریوں کی خوبیوں کا بیان
حدیث نمبر: 1625
1625 صحيح حديث أَبِي مُوسى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ، إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ (أَوْ قَالَ) الْعَدُوَّ، قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میرے اشعری احباب رات میں آتے ہیں تو میں ان کی قرآن کی تلاوت کی آواز پہچان جاتا ہوں، اگرچہ دن میں میں نے ان کی اقامت گاہوں کو نہ دیکھا ہو، لیکن جب رات میں وہ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کی آواز سے میں ان کی اقامت گاہوں کو پہچان لیتا ہوں۔ میرے ان ہی اشعری احباب میں ایک مردِ دانا بھی ہے کہ جب کہیں اس کی سواروں سے مڈ بھیڑ ہو جاتی ہے—یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دشمن سے—تو ان سے کہتا ہے کہ میرے دوستوں نے کہا ہے کہ تم تھوڑی دیر کے لیے ان کا انتظار کر لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1625 in Urdu