اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
916. باب صفات المنافقين وأحكامهم
باب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
حدیث نمبر: 1768
1768 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ كَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلَيلَةٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتُرَوْنَ أَنَّ اللهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ قَالَ الآخَرُ: يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا، وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ) الآيةَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا ایک قریشی اور دو ثقفی مرد بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پیٹ بہت موٹے تھے لیکن عقل سے کورے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: ”تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری باتوں کو سن رہا ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اگر ہم زور سے بولیں تو سنتا ہے لیکن آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔“ تیسرے نے کہا: ”اگر اللہ زور سے بولنے پر سن سکتا ہے تو آہستہ بولنے پر بھی ضرور سنتا ہو گا۔“ اس پر یہ آیت اتری: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [سورة فصلت: 22] ”اور تم اس بات سے اپنے آپ کو چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے گواہی دیں گے، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بے خبر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 41 سورة فصلت: 2 باب قوله وذلكم ظنكم الآية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1768 in Urdu