اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
916. باب صفات المنافقين وأحكامهم
باب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
حدیث نمبر: 1765
1765 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ لأَصْحَابِهِ: لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ قَالُوا: كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ) فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَقَوْلُهُ (خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ) قَالَ: كَانُوا رِجَالاً، أَجْمَلَ شَيْءٍ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوۂ تبوک یا بنی المصطلق) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں، اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا کر کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ لوگوں نے کہا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولا ہے۔ لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے میں بڑا رنجیدہ ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ منافقون نازل فرما کر میری تصدیق فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ [سورة المنافقون: 1] الخ (۶) یعنی جب آپ کے پاس منافق آئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا تاکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں لیکن انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ﴾ [سورة المنافقون: 4] گویا وہ بہت بڑے لکڑی کے کھمبے ہیں (ان کے متعلق اس لیے کہا گیا کہ) وہ بظاہر بڑے خوبصورت اور معقول مگر دل میں منافق تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 63 سورة إذا جاءك المنافقون: 3 باب قوله ذلك بأنهم آمنوا ثم كفروا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1766
1766 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، بَعْدَ مَا دُفِنَ فَأَخْرَجَهُ، فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کو دفن کیا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اسے اپنی قمیض پہنائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1766]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 23 باب الكفن في القميص الذي يكف أو لا يكفّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1767
1767 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، لَمَّا تُوُفِّيَ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، وَصلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَمِيصَهُ فَقَالَ: آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَه فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، جَذَبَهُ عُمَرُ رضي الله عنه فَقَالَ: أَلَيْسَ اللهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ: أَنَا بَيْنَ خِيْرَتَيْنِ قَالَ (اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّة، فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ) فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ (وَلاَ تصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا (عبداللہ صحابی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھیے اور مغفرت کی دعا کیجیے۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص (غایتِ مروت کی وجہ سے) عنایت کی اور فرمایا: ”مجھے بتانا میں نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔“ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کی کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا ارشادِ باری ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يُغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“”چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، اس کے بعد یہ آیت اتری: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا﴾ [سورة التوبة: 84] ”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نمازِ جنازہ کبھی نہ پڑھانا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 23 باب الكفن في القميص الذي يكفّ أو لا يكفّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1768
1768 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ، أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ كَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلَيلَةٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتُرَوْنَ أَنَّ اللهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ قَالَ الآخَرُ: يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا، وَلاَ يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ) الآيةَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا ایک قریشی اور دو ثقفی مرد بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پیٹ بہت موٹے تھے لیکن عقل سے کورے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: ”تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری باتوں کو سن رہا ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اگر ہم زور سے بولیں تو سنتا ہے لیکن آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔“ تیسرے نے کہا: ”اگر اللہ زور سے بولنے پر سن سکتا ہے تو آہستہ بولنے پر بھی ضرور سنتا ہو گا۔“ اس پر یہ آیت اتری: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ﴾ [سورة فصلت: 22] ”اور تم اس بات سے اپنے آپ کو چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے گواہی دیں گے، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بے خبر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 41 سورة فصلت: 2 باب قوله وذلكم ظنكم الآية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1769
1769 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، رَجَعَ ناسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَتْ فِرْقَةٌ: نَقْتُلُهُمْ وَقَالَتْ فِرْقَةٌ: لاَ نَقْتُلُهُمْ فَنَزَلَتْ (فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ)
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے (یہ منافقین تھے)، پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 88] ”تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو۔ انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اوندھا کر دیا ہے۔ اب کیا تم یہ منصوبے باندھ رہے ہو کہ اللہ کے گمراہ کیے ہوؤں کو تم راہ راست پر لا کھڑا کرو۔ جسے اللہ راہ بھلا دے تو ہرگز اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 10 باب المدينة تنفي الخبث»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1770
1770 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُنَافِقِينَ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ، تَخَلَّفُوا عَنْهُ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ، وَحَلَفُوا، وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ (لاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ) الآية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چند منافقین ایسے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ مدینہ میں پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر بہت خوش ہوا کرتے تھے، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو عذر بیان کرتے اور قسمیں کھا لیتے، بلکہ انہیں ایسے کام پر تعریف کروانا پسند تھا جسے انہوں نے کیا نہ ہوتا اور وہ اپنی باتوں سے اپنی بات بنانا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اسی پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 188] ”وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں، تو انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھو، ان کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1770]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 3 سورة آل عمران: 16 باب لا يحسبن الذين يفرحون بما أتوا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1771
1771 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ لِبَوَّابِهِ: اذْهَبْ يَا رَافِعُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرٍىءٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس: وَمَا لَكُمْ وَلِهذِهِ [ص:272] إِنَّمَا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ شَيْءٍ، فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَأَرَوْهُ أَنْ قَدِ اسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِمَا أَخْبَرُوهُ عَنْهُ فِيمَا سَأَلَهُمْ وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ (وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ) كَذلِكَ، حَتَّى قَوْلِهِ (يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلوا)
علقمہ بن وقاص نے بیان کیا کہ مروان بن حکم نے (جب وہ مدینہ کے امیر تھے) اپنے دربان سے کہا کہ رافع! ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں جاؤ اور ان سے پوچھو کہ آیت ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ﴾ [سورة آل عمران: 188] کی رو سے تو ہم سب کو عذاب ہونا چاہیے، کیونکہ ہر ایک آدمی ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں، خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا نہیں اس پر بھی اس کی تعریف ہو۔ ابو رافع نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر پوچھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تم مسلمانوں سے اس روایت کا کیا تعلق! یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بلایا تھا اور ان سے ایک دین کی بات پوچھی تھی۔ (جو ان کی آسمانی کتاب میں موجود تھی) انہوں نے اصل بات کو تو چھپایا اور دوسری غلط بات بیان کر دی، پھر بھی اس بات کے خواہشمند رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کے جواب میں جو کچھ انہوں نے بتایا ہے، اس پر ان کی تعریف کی جائے اور ادھر اصل حقیقت کو چھپا کر بھی بڑے خوش تھے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿اللہ تعالیٰ نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے بیان کرتے رہا کرو اور اسے چھپاؤ نہیں پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈالا، ان کا یہ بیوپار بہت برا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں تو انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھ، ان کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔﴾ [سورة آل عمران: 187، 188] [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 3 سورة آل عمران: 16 باب لا يحسبن الذين يفرحون بما أتوا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1772
1772 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ، وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ فَكَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَادَ نَصْرَانِيًّا فَكَانَ يَقُولُ: مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلاَّ مَا كَتَبْتُ لَهُ فَأَمَاتَهُ اللهُ، فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَقَالُوا: هذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ، نَبَشُوا عَنْ صَاحِبنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ، فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَقَالُوا: هذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ، وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الأَرْضِ، مَا اسْتَطَاعُوا فَأَصْبَحَ قَدْ لَفَظَتْهُ الأَرْضُ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ، فَأَلْقَوْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھا، پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے سورہ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی بن گیا، لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا اسے اور کچھ بھی معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا، جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا، اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی، لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے، چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا، اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا، لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے (بلکہ یہ میت عذابِ خداوندی میں گرفتار ہے)، چنانچہ انہوں نے اسے یونہی (زمین) پر ڈال دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»