اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
916. باب صفات المنافقين وأحكامهم
باب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
حدیث نمبر: 1767
1767 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ، لَمَّا تُوُفِّيَ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، وَصلِّ عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَمِيصَهُ فَقَالَ: آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَه فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، جَذَبَهُ عُمَرُ رضي الله عنه فَقَالَ: أَلَيْسَ اللهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ: أَنَا بَيْنَ خِيْرَتَيْنِ قَالَ (اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّة، فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ) فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ (وَلاَ تصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا (عبداللہ صحابی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھیے اور مغفرت کی دعا کیجیے۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص (غایتِ مروت کی وجہ سے) عنایت کی اور فرمایا: ”مجھے بتانا میں نمازِ جنازہ پڑھوں گا۔“ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کی کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا ارشادِ باری ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يُغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“”چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، اس کے بعد یہ آیت اتری: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا﴾ [سورة التوبة: 84] ”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نمازِ جنازہ کبھی نہ پڑھانا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 23 باب الكفن في القميص الذي يكفّ أو لا يكفّ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1767 in Urdu