اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
943. باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار عليه، وإِثْبات عذاب القبر والتعوّذ منه
باب: میت کو اس کا ٹھکانہ دکھائے جانے کا بیان اور عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1825
1825 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لاَ إِله إِلاَّ اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَذلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بَالْقَوْلِ الثَّابِتِ)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة إبراهيم: 27] کی تعبیر ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات، یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1825]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 87 باب ما جاء في عذاب القبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1825 in Urdu