🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
943. باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار عليه، وإِثْبات عذاب القبر والتعوّذ منه
باب: میت کو اس کا ٹھکانہ دکھائے جانے کا بیان اور عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1826
1826 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلاً مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ، خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ، الْيَوْمَ الثَّالِثَ، أَمَرَ بَرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلاَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَن أَيَسُرُّكُمْ أنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدانِ جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے۔ جنگِ بدر کے خاتمے کے تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے، صحابہ نے کہا: غالباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے اور کفارِ قریش کے مقتول سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر انہیں آواز دینے لگے: ”اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بے شک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہو گیا، تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ (عذاب کا) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں جن میں کوئی جان نہیں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 8 باب قتل أبي جهل»
وضاحت: جو لوگ اس واقعہ سے سماع موتی ثابت کرتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں۔ کیونکہ یہ سنانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا۔ قرآن حکیم میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ وما انت بسمع من فی القبور یعنی آپ قبر والوں کو سنانے سے قاصر ہیں۔ مرنے کے بعد جملہ دنیاوی تعلقات ٹوٹنے کے ساتھ دنیاوی زندگی کے لوازمات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ سننا بھی اسی میں شامل ہے۔ اگر مردے سنتے ہوں تو ان پر مردگی کا حکم لگانا ہی غلط ٹھہرتا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1826 in Urdu