اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
956. باب ذكر ابن صياد
باب: ابن صیاد کا بیان
حدیث نمبر: 1853
1853 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّاسِ، فَأَثْنى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنِّي أُنْذِرُ كُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کی شان کے لائق تھی، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا: ”میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1853]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 178 باب كيف يعرض الإسلام على الصبي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1853 in Urdu