اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
957. باب ذكر الدجال وصفته وما معه
باب: دجال اور اس کے اوصاف اور جو کچھ اس کے ساتھ ہو گا
حدیث نمبر: 1856
1856 صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرِو لِحُذَيْفَةَ: أَلاَ تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ مَعَ الدَّجَالِ، إِذَا خَرَجَ، مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ، فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّها نَارٌ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌ
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: ”جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے، لیکن جو لوگوں کو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو لوگوں کو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہوگی، اس لیے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں (ہو) تو اسے اس میں گرنا چاہیے جو آگ ہوگی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1856 in Urdu