اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
957. باب ذكر الدجال وصفته وما معه
باب: دجال اور اس کے اوصاف اور جو کچھ اس کے ساتھ ہو گا
حدیث نمبر: 1857
1857 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ، مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ، هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہ میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتا دوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نہیں بتائی۔ وہ کانا ہو گا اور جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا۔ پس جسے وہ جنت کہے گا در حقیقت وہی دوزخ ہو گی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 3 باب قول الله عز وجل (ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت اور تمام محدثین فقہاء وغیرہ کا مسلک ہے کہ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ دجال کا وجود درست ہے وہ ایک معین شخص ہو گا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کی آزمائش فرمائے گا۔ اسے اپنی قدرت اور مشیت سے بہت سی چیزوں پر طاقت عطا فرمائے گا۔ وہ مردوں کو زندہ کر سکے گا، دنیا کو سر سبز کر دے گا، اس کے پاس جنت اور آگ ہو گی۔ زمین کی نہریں اور خزانے اس کے حکم کے تابع ہوں گے۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ اسے عاجز کر دے گا اور اس کا معاملہ باطل قرار پائے گا۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1857 in Urdu