اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. باب الدليل على أن من تيقن الطهارة ثم شك في الحدث فله أن يصلي بطهارته
باب: جس شخص کو طہارت کا یقین ہو پھر اس میں شک ہو تو وہ اس وضو میں نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 204
204 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلاَةِ، فَقَالَ: لاَ يَنْفَتِلْ أَوْ لاَ يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ایک شخص ہے جسے یہ خیال ہوتا ہے کہ نماز میں کوئی چیز (یعنی ہوا نکلتی ہوئی) معلوم ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز سے) نہ پھرے یا نہ مڑے، جب تک آواز نہ سنے یا بو نہ پائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 4 باب لا يتوضأ من الشك حتى يستيقن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 204 in Urdu