اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. باب طهارة جلود الميتة بالدباغ
باب: مردہ جانوروں کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے
حدیث نمبر: 205
205 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَيِّتَةً أُعْطِيَتْهَا مَولاَةٌ لمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ؛ قَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کی بکری، جو صدقہ میں کسی نے دی تھی، مری ہوئی دیکھی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لاتے؟“ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 61 باب الصدقة على موالي أزواج النبي صلي الله عليه وسلم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 205 in Urdu