اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان
حدیث نمبر: 209
209 صحيح حديث أَبِي الْجُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحرِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ: أَقْبَلَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر بن عبداللہ نے کہا کہ میں اور سیدنا میمونہ رضی اللہ عنہا (زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے غلام عبداللہ بن یسار، ابو جھیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی) کے پاس آئے تو ابو جھیم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بئرِ جمل کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، راستے میں ایک شخص آپ کو ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا (یعنی خود ابو جھیم نے)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے قریب آئے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 209]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 7 كتاب التيمم في الحضر إذا لم يجد الماء»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ابو جہیم بن حارث الانصاری رضی اللہ عنہ بی بن کعب کے بھانجے ہیں اور معروف صحابی ہیں۔ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ تک زندہ رہے۔ ان کا نام عبداللہ تھا۔ بعض نے ان کا نام حارث بتایا ہے اور کہا ہے کہ ابو جہیم اور حارث کے درمیان ابن کا لفظ غلط واقع ہوا ہے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 209 in Urdu