اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
114. باب الدليل على أن المسلم لا ينجس
باب: مسلمان نجس نہیں ہوتا اس کی دلیل
حدیث نمبر: 210
210 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فأَخَذَ بِيَدِي، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ مِنْهُ وَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ؛ فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ يَا أَبَا هِرٍّ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی اور اس وقت میں جنبی تھا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ساتھ چلنے لگا، آخر آپ ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضرِ خدمت ہوا، آپ ابھی (وہیں) بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟“ میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! اے ابوہریرہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 24 باب الجنب يخرج ويمشي في السوق وغيره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 210 in Urdu