اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
128. باب ائتمام المأموم بالإمام
باب: مقتدی کو امام کی پیروی ضروری ہے
حدیث نمبر: 232
232 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَصَلَّى بِنا قَاعِدًا، فَقَعَدْنَا؛ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ؛ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَع فارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے زمین پر گر گئے، اس گرنے سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا، تو ہم آپ کی خدمت میں عیادت کی غرض سے حاضر ہوئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا اور آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم بھی بیٹھ گئے، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 128 باب يهوى بالتكبير حين يسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 232 in Urdu