اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
حدیث نمبر: 238
238 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأُذِّنَ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رجلٌ أَسِيفٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَعَادَ فَأَعَادُوا لَهُ، فَأَعَادَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ؛ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ الأَرْضَ مِنَ الْوَجَعِ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، [ص:87] وأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَتِهِ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں جب نماز کا وقت آیا اور اذان دی گئی تو فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ابوبکر بڑے نرم دل ہیں، اگر وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم فرمایا اور آپ کے سامنے پھر وہی بات دہرا دی گئی۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو بالکل یوسف کی ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو (کہ دل میں کچھ ہے اور ظاہر کچھ اور کر رہی ہو)، ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“۔ آخر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر تشریف لے گئے، گویا میں اس وقت آپ کے قدموں کو دیکھ رہی ہوں کہ تکلیف کی وجہ سے زمین پر لکیر کرتے جاتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ پر رہنے کے لیے کہا، پھر ان کے قریب آئے اور بازو میں بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی اقتداء کی اور لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 238]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 39 باب حدّ المريض أن يشهد الجماعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 238 in Urdu