🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
239 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى مَا يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؛ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لاَ يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ: إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاس؛ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ؛ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ؛ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارٍ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلاَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی خبر دینے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں اور جب بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے لوگوں کو (شدتِ گریہ کی وجہ سے) آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تو بہتر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔“ پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے، اس لیے اگر عمر رضی اللہ عنہ سے کہیں تو بہتر ہوگا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صواحبِ یوسف سے کم نہیں ہو، ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔“ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ ہلکا پن محسوس فرمایا اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر نشان بنا رہے تھے، اس طرح چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے روکا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں طرف بیٹھ گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 68 باب الرجل يأتم بالإمام ويأتم الناس بالمأموم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 239 in Urdu