🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب استخلاف الإمام إِذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس
باب: امام کو اگر بیماری یا سفر وغیرہ کا عذر ہو تو وہ نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
240 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ، وَصَحْبَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ، فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ، يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَكُ، فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنَ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلاَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكمْ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ
سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور صحابی تھے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے تھے۔ پیر کے دن جب لوگ نماز میں صف باندھے کھڑے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے کا پردہ ہٹائے کھڑے ہوئے ہماری طرف دیکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (حسن و جمال اور صفائی میں) گویا مصحف کا ورق تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر ہنسنے لگے۔ ہمیں اتنی خوشی ہوئی کہ خطرہ ہو گیا کہ کہیں ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے ہی میں مشغول نہ ہو جائیں اور نماز توڑ دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف کے ساتھ آنا چاہتے تھے، انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اشارہ کیا کہ ”نماز پوری کر لو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اسی دن ہو گئی۔ ( «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 46 باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 240 in Urdu