اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. باب الاعتراض بين يدي المصلي
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 289
289 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ کے سامنے) بچھونے پر آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی، جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 103 باب الصلاة خلف النائم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 289 in Urdu