اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. باب الاعتراض بين يدي المصلي
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 291
291 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِي السَّرِيرِ حَتَّى أنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنا دیا، حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے بیچ میں آ جاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلہ کے بیچ میں کر لیتے) پھر نماز پڑھتے، مجھے آپ کے سامنے پڑے رہنا برا معلوم ہوتا، اس لیے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کر لحاف سے باہر نکل جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 99 باب الصلاة إلى السرير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 291 in Urdu