اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
169. باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام
باب: کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 330
330 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَت الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلاَ يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا شام کا کھانا تیار ہو چکا ہو اور تکبیر بھی کہی جا چکی ہو تو پہلے کھانا کھا لو اور نماز کے لیے جلدی نہ کرو، کھانے سے فراغت کر لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 42 باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة»
وضاحت: ان احادیث کا مقصد اتنا ہی ہے کہ بھوک کے وقت اگر کھانا تیار ہو، تو پہلے اس سے فارغ ہونا چاہیے تاکہ نماز پورے سکون کے ساتھ ادا کی جائے اور دل کھانے میں نہ لگا رہے۔ اور یہ اس کے لیے ہے جسے پہلے ہی سے بھوک ستا رہی ہو۔ (راز) جسے بھوک نہ لگی ہو، اس کو چاہیے کہ نماز ادا کرنے کے بعد کھانا کھا لے۔ بلاوجہ کی رخصت تلاش نہ کرے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 330 in Urdu