🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
170. باب نهي من أكل ثومًا أو بصلاً أو كراثًا أو نحوها
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا اسی طرح کی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں آنا ممنوع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
331 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر کہا تھا: ”جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو کھائے ہوئے ہو، اسے ہماری مسجد میں نہ آنا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 160 باب ما جاء في الثوم النِّيِّ والبصل والكراث»
وضاحت: کچا لہسن یا کچا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس کے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔ سگریٹ نوشوں کے لیے بھی لازم ہے کہ منہ صاف کر کے بدبودور کر کے مسواک سے منہ کو رگڑ رگڑ کر مسجد میں آئیں۔ ان بدبودار چیزوں کا ایک ہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ لہسن اور پیاز کو پکا کر قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 331 in Urdu