🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
265. باب البكاء على الميت
باب: میت پر رونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
531 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلاَمَ وَيَقُولُ: إِنَّ للهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيأْتِيَنَّهَا؛ فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرِجَالٌ؛ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا شَنٌّ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هذَا فَقَالَ: هذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءُ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور کہلوایا کہ «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» ”اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔“ پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے قسم دے کر اپنے یہاں بلوا بھیجا، اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانے کے لیے اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا جس کی جانکنی کا عالم تھا جیسے پرانا مشکیزہ ہوتا ہے (اور پانی کے ٹکرانے کی اندر سے آواز آتی ہے اسی طرح جانکنی کے وقت بچہ کے حلق سے آواز آ رہی تھی)، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے (نیک) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 32 كتاب الجنائز: 33 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعذب الميت ببعض بُكاء أهله عليه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 531 in Urdu