اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
265. باب البكاء على الميت
باب: میت پر رونے کا بیان
حدیث نمبر: 532
532 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعُودُهُ، مَعَ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَى قَالُوا: لاَ يَا رَسُولَ اللهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ: أَلاَ تَسْمَعُونَ، إِنَّ اللهَ لاَ يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلاَ بِحُزْنِ الْقَلْبِ، وَلكِنْ يُعَذِّبُ بِهذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ، وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا وفات ہو گئی؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر) رو پڑے، لوگوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر، ہاں! اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا ”(اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 54 باب البكاء عند المريض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 532 in Urdu