اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب من مات لا يشرك بالله شيئًا دخل الجنة
باب: جو شخص شرک سے پاک حالت میں مرے وہ جنت میں جائے گا
حدیث نمبر: 60
60 صحيح حديث أَبي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ وَهُوَ نائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقالَ: ما مَنْ عَبْدٍ قَالَ لا إِلهَ إِلاّ اللهُ ثُمَّ ماتَ عَلى ذَلِكَ إِلاّ دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ: وَإِنْ زَنى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ: وَإِنْ زَنى وَإِنْ سَرَقَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ: وَإِنْ زَنى وَإِنْ سَرَقَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ: وَإِنْ زَنى وَإِنْ سَرَقَ عَلى رَغْمِ أَنْفِ أَبي ذَرٍّ وَكانَ أَبُو ذَرٍّ إِذا حَدَّثَ بِهذا قَالَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبي ذَرٍّ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے بھی کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو؟ چاہے اس نے چوری کی ہو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔“ میں نے پھر عرض کیا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو؟ چاہے اس نے چوری کی ہو؟“ فرمایا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔“ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ «رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ» ”اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلودہ ہو“ ضرور بیان کرتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 24 باب الثياب البيض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 60 in Urdu