اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إِله إِلا الله
باب: کافر کو لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے
حدیث نمبر: 61
61 صحيح حديث الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ (هُوَ الْمِقْدادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ) أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلاً مِنَ الْكُفّارِ، فَاقْتَتَلْنا، فَضَرَبَ إِحْدى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ قَقَطَعَها، ثُمَّ لاذَ مِنّي بِشَجَرَةٍ، فَقالَ أَسْلَمْتُ للهِ، أَأَقْتُلُهُ يا رَسولَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالَها فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَقْتُلْهُ، فَقالَ يا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ ما قَطَعَها؛ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقولَ كَلِمَتُه الَّتي قَالَ
سیدنا مقداد بن اسود یعنی مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہے: میں اللہ پر ایمان لے آیا، تو کیا یا رسول اللہ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے قتل نہ کرنا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ پہلے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ چکا ہے اور یہ اقرار میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی فرمایا: ”اسے قتل نہ کر، کیوں کہ اگر تو نے اسے قتل کر ڈالا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا، اب اس کا وہ مقام ہو گا اور تمہارا مقام وہ ہو گا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اس کلمہ کا اقرار نہیں کیا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 12 باب حدثني خليفة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ قداد بن عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کے نام سے معروف ہیں۔ انہوں نے اسود بن عبد یغوث زہری کی گود میں پرورش پائی تھی اور ان کے متبنّٰی تھے۔ سابقین اولین صحابہ میں سے ہیں۔ بدر میں بطور گھڑ سوار شریک ہوئے۔ بارعب شخصیت کے مالک تھے تقریباً ستر سال کی عمر پانے کے بعد ۳۳ ہجری کو وفات پائی۔ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ بہت سی احادیث کے راوی ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 61 in Urdu