🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إِله إِلا الله
باب: کافر کو لا الٰہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 62
62 صحيح حديث أُسامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنهما قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى الْحُرَقَةِ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصارِ رَجُلاً مِنْهُمْ، فَلَمّا غَشِينَاهُ قَالَ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ، فَكَفَّ الأَنْصارِيُّ عَنْهُ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحي حَتّى قَتَلْتُهُ؛ فَلَمّا قَدِمْنَا، بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقالَ: يا أُسامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَما قَالَ لا إِلهَ إِلاَّ اللهُ، قُلْتُ كَانَ مُتَعَوِّذًا؛ فَما زَالَ يُكَرِّرُها حَتّى تَمَنَّيْتُ أَنّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی، پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص (مرداس بن عمرو) سے بھڑ گئے، جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے لگا، انصاری تو فوراً ہی رک گیا، لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کر دیا، جب ہم لوٹے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسامہ! کیا اس کے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا؟“ میں نے عرض کیا کہ قتل سے بچنا چاہتا تھا (اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہے: ”(کیا تم نے اس کے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے پر بھی اسے قتل کر دیا)“ حتیٰ کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 45 باب بعث النبي صلی اللہ علیہ وسلم أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب غلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنّٰی سیّدنا زید رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی مبارک میں جس آخری لشکر کو ترتیب دیا اور جس میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ور دوسرے کبار صحابہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اس لشکر کا سپہ سالار سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بڑی محبت کرتے تھے۔ انہیں اور سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر فرمایا تھا کہ یا اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ ۱۲۸ احادیث کے راوی ہیں۔ سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 62 in Urdu