اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
419. باب الحج عن العاجز لزمانة وهرم ونحوهما أو للموت
باب: بوڑھے اور میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 844
844 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ؛ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ: نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، فضل اس کو دیکھنے لگے وہ بھی انہیں دیکھ رہی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ بار بار دوسری طرف موڑ دینا چاہتے تھے، اس عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد کے لیے ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں، اونٹنی پر بیٹھ نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج (بدل) کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ہاں۔“ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 1 باب وجوب الحج وفضله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 844 in Urdu