اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
419. باب الحج عن العاجز لزمانة وهرم ونحوهما أو للموت
باب: بوڑھے اور میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 845
845 صحيح حديث الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ: نَعَمْ
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے حج کا فریضہ جو اس کے بندوں پر ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو بھی پا لیا ہے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بیٹھ سکیں، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 23 باب الحج عمن لا يستطيع الثبوت على الراحلة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور ثابت قدم رہے۔ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن صحابہ نے غسل دیا تھا ان میں یہ بھی شامل تھے۔ بعد میں شام کی طرف جہاد کے لیے چلے گئے اردن میں طاعون عموا س میں ۱۸ ھ کو ۲۱ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ایک قول کے مطابق جنگ یرموک میں شہید ہوئے تھے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 845 in Urdu