اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
423. باب التعريس بذى الحليفة والصلاة بها إِذا صدر من الحج أو العمرة
باب: ذوالحلیفہ میں اترنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 853
853 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي، قِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَة (قَالَ مُوسى بْنُ عُقْبَةَ، أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) : وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللهِ يُنِيخُ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی (وادی عقیق) دکھایا گیا (جس میں) آپ سے کہا گیا تھا کہ ”آپ اس وقت بطحا مبارکہ میں ہیں“ موسیٰ بن عقبہ (سند میں سے ایک راوی) نے کہا کہ سالم رحمہ اللہ نے ہمیں بھی وہاں ٹھہرایا، وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اونٹ بٹھایا کرتے تھے، یعنی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے، وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف ہے جو نالے کے نشیب میں ہے، اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 16 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم العقيق واد مبارك»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 853 in Urdu