اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
471. باب استحباب نكاح البكر
باب: کنواری سے نکاح مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 930
930 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا قَالَ: فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ قَالَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ، فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ أَوْ خَيْرًا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد شہید ہو گئے اور انہوں نے سات لڑکیاں چھوڑیں یا (راوی نے کہا کہ) نو لڑکیاں، چنانچہ میں نے ایک پہلے کی شادی شدہ عورت سے نکاح کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”جابر! تم نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کنواری سے کی ہے یا بیاہی سے؟“ میں نے عرض کیا کہ بیاہی سے، فرمایا: ”تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی، تم اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور انہوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس ان ہی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی اصلاح کا خیال رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے“ یا (راوی کو شک تھا) «أَوْ قَالَ خَيْرًا» ”اللہ تم کو خیر عطا کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 930]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب النفقات: 12 باب عون المرأة زوجها في ولده»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 930 in Urdu