🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
471. باب استحباب نكاح البكر
باب: کنواری سے نکاح مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 931
931 صحيح حديث جَابِرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ قَالَ: مَا يُعْجِلُكَ قُلْتُ: إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ: فَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا قَالَ: فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَفِي هذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ: الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ يَعْنِي الْوَلَدَ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد (تبوک) میں تھا، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا، اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اتنی جلدی کیوں کر رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے کنواری عورت سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”تم نے کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب ہم (مدینہ) پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، یہاں تک کہ رات ہو جائے تاکہ تمہاری بیویاں، جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ زیرِ ناف بال صاف کر لیں۔“ اور اسی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: «الْكَيْسَ الْكَيْسَ» ”عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو۔“ یعنی اے جابر! جب تم گھر پہنچو تو خوب عقلمندی کرنا (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: «الْكَيْسُ» کا یہی مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کرنا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 121 باب طلب الولد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 931 in Urdu