المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جنگ میں حاضر ہونے والی عورت اور غلام کو (غنیمت سے) کچھ عطیہ دینا
حدیث نمبر: 1087
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْهِمْ لِي؟ قَالَ: فَأَعْطَانِي سَيْفًا، قَالَ: " تَقَلَّدْ هَذَا، وَأَعْطَانِي مِنْ خُرْنِيِّ الْمَتَاعِ" .
ابو اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں شریک ہوا، تو اس وقت میں غلام تھا، میں نے عرض کیا: الله کے رسول! مجھے بھی حصہ دیجیے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے ایک تلوار دی اور فرمایا: اسے گلے میں ڈال لیں۔ نیز آپ نے گھریلو استعمال کی چند چیزیں بھی مجھے دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1087]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 5/223، سنن أبي داود: 2730، سنن ابن ماجه: 2855، سنن الترمذي: 1557، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: 2671، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (6898) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4831) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (2/131) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ حفص بن غیاث نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، اس کی متابعت بھی موجود ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن زيد القرشي ← عمير مولى آبي اللحم