الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جزیہ کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ وَابْنُ الطَّبَّاعِ ، قَالا: ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصْلُحُ مِلَّتَانِ" ، وَقَالَ ابْنُ الطَّبَّاعِ: قِبْلَتَانِ فِي قَرْيَةٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ.
سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بستی میں دو دین یا دو قبلے کے لوگوں کا (اکٹھا) رہنا درست نہیں، نیز کسی مسلمان پر جزیہ نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 1/223، 285، سنن أبي داود: 3053، سنن الترمذي: 633-634، قابوس بن طہمان جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
الحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي