المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا بیان
حدیث نمبر: 16
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ مَا يُتَوَضَأُ مِنْهُ، فَذَكَرَ عُرْوَةُ وَذَكَرَ حَتَّى ذَكَرَ الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، قَالَ أَبِي: لَمْ أَسْمَعْ بِهِ فَقَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ ، عَنْ بُسْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" ، قُلْنَا: أَرْسِلْ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ حَرَسِيًّا أَوْ رَجُلا، فَجَاءَ الرَّسُولُ بِذَلِكَ.
عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ) اور عروۃ رحمہ اللہ نواقض وضو کا ذکر کرنے لگے، تذکرہ کرتے کرتے عروۃ رحمہ اللہ نے شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹنے کا ذکر بھی کیا، میرے والد کہنے لگے: میں نے تو یہ نہیں سنا، عروۃ رحمہ اللہ کہنے لگے: مروان نے مجھے بسرۃ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے، وہ وضو کرے۔ ہم نے کہا: بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیجو، چنانچہ مروان نے چوکیدار یا کسی اور کو ان کے پاس بھیجا، تو قاصد وہی جواب لایا (جو عروہ رحمہ اللہ کہتے تھے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الحميدي: 352، مسند الإمام أحمد: 406/6-407، سنن النسائي: 444»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
مروان بن الحكم القرشي ← بسرة بنت صفوان الأسدية