المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَرَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنَ أُذُنَيْهِ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَسَجَدَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى مثل مِقْدَارِهِمَا حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ" .
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو ضرور دیکھوں گا، بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو تکبیر کہہ کر دونوں ہاتھ اٹھائے، میں نے آپ کے انگوٹھوں کو کانوں کے قریب دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنے ہی فاصلے پر رکھا، جتنا کہ افتتاحی تکبیر (تحریمہ) کے دوران تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن النسائي: 1102، سنن ابن ماجه: 912، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (691) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1945) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
كليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي