🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نماز میں جائز اور ناجائز کاموں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَهُمْ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا قَهَرَنِي وَلا شَتَمَنِي وَلا ضَرَبَنِي، قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ هَذَا، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" . أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:" فَلا تَأْتِهِمْ" قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَتَطَيَّرُونَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلا يَصُدَّنَّهُمْ" قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا قَوْمٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيُّ يَخُطُّ فَمَنْ رَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ" قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَأَطْلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ آسِفٌ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَفَلا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا" فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ:" هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا" .
سیدنا معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک نمازی نے چھینک ماری، تو میں نے کہ دیا «يَرْحَمُكَ اللهُ» لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کیے، جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں، تو میں چپ کر گیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں نے آپ سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی استاذ ایسا نہیں دیکھا، جو آپ سے بہتر تعلیم دینے والا ہو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا، نہ برا بھلا کہا، نہ مارا، صرف اتنا فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں باتیں کرنا جائز نہیں۔ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہوتی ہے۔ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت سے نوازا ہے، ابھی بھی ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نہ جایا کریں۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے فال لیتے ہیں؟ فرمایا: یہ محض ان کا وہم ہے۔ یہ فال وغیرہ انہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ خط (لکیریں) کھینچتے ہیں؟، فرمایا: ایک نبی (ادریس علیہ السلام) خط کھینچا کرتے تھے، پس جس کا خط اس کے موافق ہو گیا، وہ تو درست ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میری ایک لونڈی احد اور جوانیہ پہاڑ کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں اس کے پاس گیا، تو ایک بھیڑیا اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے کے جا چکا تھا، چونکہ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی ان کی طرح غصہ آ گیا، میں نے اس (لونڈی) کو زور دار تھپڑ مار دیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے یہ واقعہ ذکر کیا، تو آپ نے اسے میرے حق میں بہت بڑا گناہ خیال کیا۔ عرض کی کہ میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ فرمایا: اسے میرے پاس لائیں۔ میں اسے آپ کے پاس لے آیا، تو آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، فرمایا: اسے آزاد کر دیں، یہ مؤمنہ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 212]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 537»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن الحكم السلميصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← معاوية بن الحكم السلمي
ثقة
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥الحجاج بن أبي عثمان الصواف، أبو عثمان، أبو الصلت
Newالحجاج بن أبي عثمان الصواف ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة حافظ
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← الحجاج بن أبي عثمان الصواف
ثقة حجة حافظ
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← علي بن خشرم المروزي
ثقة حجة حافظ
👤←👥محمد بن سعيد البغدادي، أبو يحيى
Newمحمد بن سعيد البغدادي ← إسماعيل بن علية الأسدي
صدوق حسن الحديث
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 212 in Urdu